حدثنا إسحاق بن منصور، اخبرنا النضر، اخبرنا شعبة، حدثنا ابو جمرة، قال:" سالت ابن عباس رضي الله عنهما عن المتعة، فامرني بها، وسالته عن الهدي، فقال: فيها جزور او بقرة او شاة او شرك في دم، قال: وكان ناسا كرهوها فنمت، فرايت في المنام كان إنسانا ينادي حج مبرور ومتعة متقبلة، فاتيت ابن عباس رضي الله عنهما فحدثته، فقال: الله اكبر، سنة ابي القاسم صلى الله عليه وسلم"، قال: وقال آدم ووهب بن جرير وغندر: عن شعبة، عمرة متقبلة وحج مبرور".
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، انہیں نضر بن شمیل نے خبر دی، انہیں شعبہ نے خبر دی، ان سے ابوجمرہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے تمتع کے بارے میں پوچھا تو آپ نے مجھے اس کے کرنے کا حکم دیا، پھر میں نے قربانی کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ تمتع میں ایک اونٹ، یا ایک گائے یا ایک بکری (کی قربانی واجب ہے) یا کسی قربانی (اونٹ، یا گائے بھینس کی) میں شریک ہو جائے، ابوجمرہ نے کہا کہ بعض لوگ تمتع کو ناپسندیدہ قرار دیتے تھے۔ پھر میں سویا تو میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص پکار رہا ہے یہ حج مبرور ہے اور یہ مقبول تمتع ہے۔ اب میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے خواب کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا: اللہ اکبر! یہ تو ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ کہا کہ وہب بن جریر اور غندر نے شعبہ کے حوالہ سے یوں نقل کیا ہے «عمرة متقبلة، وحج مبرور» (اس میں عمرہ کا ذکر پہلے ہے یعنی یہ عمرہ مقبول اور حج مبرور ہے)۔