كِتَاب الْحَجِّ کتاب: حج کے مسائل کا بیان

حدثنا ابو نعيم، حدثنا افلح بن حميد، عن القاسم بن محمد، عن عائشة رضي الله عنها، قالت:" نزلنا المزدلفة، فاستاذنت النبي صلى الله عليه وسلم سودة ان تدفع قبل حطمة الناس، وكانت امراة بطيئة فاذن لها فدفعت قبل حطمة الناس، واقمنا حتى اصبحنا نحن، ثم دفعنا بدفعه فلان اكون استاذنت رسول الله صلى الله عليه وسلم كما استاذنت سودة احب إلي من مفروح به".

ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے افلح بن حمید نے، ان سے قاسم بن محمد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ جب ہم نے مزدلفہ میں قیام کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سودہ رضی اللہ عنہا کو لوگوں کے اژدہام سے پہلے روانہ ہونے کی اجازت دے دی تھیں، وہ بھاری بھر کم بدن کی خاتون تھیں، اس لیے آپ نے اجازت دے دی چنانچہ وہ اژدہام سے پہلے روانہ ہو گئیں۔ لیکن ہم وہیں ٹھہرے رہے اور صبح کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گئے اگر میں بھی سودہ رضی اللہ عنہا کی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لیتی تو مجھ کو تمام خوشی کی چیزوں میں یہ بہت ہی پسند ہوتا۔

صحيح البخاري # 1681
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp