حدثنا فروة بن ابي المغراء، حدثنا علي بن مسهر، عن هشام بن عروة، قال عروة" كان الناس يطوفون في الجاهلية عراة إلا الحمس، والحمس قريش، وما ولدت، وكانت الحمس يحتسبون على الناس يعطي الرجل الرجل الثياب يطوف فيها، وتعطي المراة المراة الثياب تطوف فيها، فمن لم يعطه الحمس طاف بالبيت عريانا، وكان يفيض جماعة الناس من عرفات، ويفيض الحمس من جمع، قال: واخبرني ابي، عن عائشة رضي الله عنها، ان هذه الآية نزلت في الحمس ثم افيضوا من حيث افاض الناس سورة البقرة آية 199، قال: كانوا يفيضون من جمع فدفعوا إلى عرفات".
ہم سے فروہ بن ابی المغراء نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے علی بن مسہر نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ حمس کے سوا بقیہ سب لوگ جاہلیت میں ننگے ہو کر طواف کرتے تھے، حمس قریش اور اس کی آل اولاد کو کہتے تھے، (اور بنی کنانہ وغیرہ، جیسے خزاعہ) لوگوں کو (اللہ کے واسطے) کپڑے دیا کرتے تھے۔ (قریش) کے مرد دوسرے مردوں کو تاکہ انہیں پہن کر طواف کر سکیں اور (قریش کی) عورتیں دوسری عورتوں کو تاکہ وہ انہیں پہن کر طواف کر سکیں، اور جن کو قریش کپڑا نہیں دیتے وہ بیت اللہ کا طواف ننگے ہو کر کرتے۔ دوسرے سب لوگ تو عرفات سے واپس ہوتے لیکن قریش مزدلفہ ہی سے (جو حرم میں تھا) واپس ہو جاتے۔ ہشام بن عروہ نے کہا کہ میرے باپ عروہ بن زبیر نے مجھے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی کہ یہ آیت قریش کے بارے میں نازل ہوئی کہ ”پھر تم بھی (قریش) وہیں سے واپس آؤ جہاں سے اور لوگ واپس آتے ہیں“ (یعنی عرفات سے، سورۃ البقرہ) انہوں نے بیان کیا کہ قریش مزدلفہ ہی سے لوٹ آتے تھے اس لیے انہیں بھی عرفات سے لوٹنے کا حکم ہوا۔