كِتَاب الْحَجِّ کتاب: حج کے مسائل کا بیان

حدثنا عبد الله بن مسلمة، حدثنا مالك، عن محمد بن عبد الرحمن بن نوفل، عن عروة، عن زينب ابنة ام سلمة، عن ام سلمةرضي الله عنها، قالت:" شكوت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم اني اشتكي، فقال: طوفي من وراء الناس وانت راكبة، فطفت ورسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي إلى جنب البيت وهو يقرا: ب والطور {1} وكتاب مسطور {2} سورة الطور آية 1-2".

ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ ہم سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن عبدالرحمٰن بن نوفل نے، ان سے عروہ نے بیان کیا، ان سے زینب بنت ام سلمہ نے، ان سے ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ میں بیمار ہو گئی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر لوگوں کے پیچھے سے سوار ہو کر طواف کر لے۔ چنانچہ میں نے جب طواف کیا تو اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے پہلو میں (نماز کے اندر) «والطور وكتاب مسطور‏» کی قرآت کر رہے تھے۔

صحيح البخاري # 1633
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp