كِتَاب الْحَجِّ کتاب: حج کے مسائل کا بیان

حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب , عن عروة، عن عائشة رضي الله عنها. ح وحدثني محمد بن مقاتل، قال: اخبرني عبد الله هو ابن المبارك، قال: اخبرنا محمد بن ابي حفصة، عن الزهري، عن عروة، عن عائشة رضي الله عنها، قالت:" كانوا يصومون عاشوراء قبل ان يفرض رمضان، وكان يوما تستر فيه الكعبة، فلما فرض الله رمضان، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من شاء ان يصومه فليصمه، ومن شاء ان يتركه فليتركه".

ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا (دوسری سند امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا) اور مجھ سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہمیں محمد بن ابی حفصہ نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں عروہ نے اور ان سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان فرمایا کہ رمضان (کے روزے) فرض ہونے سے پہلے مسلمان عاشوراء کا روزہ رکھتے تھے۔ عاشوراء ہی کے دن (جاہلیت میں) کعبہ پر غلاف چڑھایا جاتا تھا۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے رمضان فرض کر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا کہ اب جس کا جی چاہے عاشوراء کا روزہ رکھے اور جس کا جی چاہے چھوڑ دے۔

صحيح البخاري # 1592
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp