كِتَاب الْحَجِّ کتاب: حج کے مسائل کا بیان

حدثنا إسماعيل، قال: حدثني مالك. ح وحدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن نافع، عن ابن عمر، عن حفصة رضي الله عنهم زوج النبي صلى الله عليه وسلم، انها قالت:" يا رسول الله، ما شان الناس حلوا بعمرة ولم تحلل انت من عمرتك؟ , قال: إني لبدت راسي , وقلدت هديي، فلا احل حتى انحر".

ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا (دوسری سند) اور امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں نافع نے اور انہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا یا رسول اللہ! کیا بات ہے اور لوگ تو عمرہ کر کے حلال ہو گئے لیکن آپ حلال نہیں ہوئے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اپنے سر کی تلبید (بالوں کو جمانے کے لیے ایک لیس دار چیز کا استعمال کرنا) کی ہے اور اپنے ساتھ ہدی (قربانی کا جانور) لایا ہوں اس لیے میں قربانی کرنے سے پہلے احرام نہیں کھول سکتا۔

صحيح البخاري # 1566
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp