حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن ابي الاسود محمد بن عبد الرحمن بن نوفل، عن عروة بن الزبير، عن عائشة رضي الله عنها، انها قالت:" خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم عام حجة الوداع، فمنا من اهل بعمرة، ومنا من اهل بحجة وعمرة، ومنا من اهل بالحج، واهل رسول الله صلى الله عليه وسلم بالحج، فاما من اهل بالحج او جمع الحج والعمرة لم يحلوا حتى كان يوم النحر".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے خبر دی، انہیں ابوالاسود محمد بن عبدالرحمٰن بن نوفل نے، انہیں عروہ بن زبیر نے اور ان سے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہم حجتہ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے۔ کچھ لوگوں نے عمرہ کا احرام باندھا تھا، کچھ نے حج اور عمرہ دونوں کا اور کچھ نے صرف حج کا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (پہلے) صرف حج کا احرام باندھا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ بھی شریک کر لیا، پھر جن لوگوں نے حج کا احرام باندھا تھا یا حج اور عمرہ دونوں کا، ان کا احرام دسویں تاریخ تک نہ کھل سکا۔