كِتَاب الزَّكَاة کتاب: زکوۃ کے مسائل کا بیان

حدثنا سعيد بن عفير، حدثنا ابن وهب، عن يونس، عن ابن شهاب، حدثني عبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس رضي الله عنهما، قال:" وجد النبي صلى الله عليه وسلم شاة ميتة اعطيتها مولاة لميمونة من الصدقة، قال النبي صلى الله عليه وسلم: هلا انتفعتم بجلدها، قالوا: إنها ميتة، قال: إنما حرم اكلها".

ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا ‘ ان سے یونس نے ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ کہا کہ مجھ سے عبیداللہ بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میمونہ رضی اللہ عنہا کی باندی کو جو بکری صدقہ میں کسی نے دی تھی وہ مری ہوئی دیکھی۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ اس کے چمڑے کو کیوں نہیں کام میں لائے۔ لوگوں نے کہا کہ یہ تو مردہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حرام تو صرف اس کا کھانا ہے۔

صحيح البخاري # 1492
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp