قال لي خليلي: قال: قلت: من خليلك؟ , قال: النبي صلى الله عليه وسلم: يا ابا ذر، اتبصر احدا؟ , قال: فنظرت إلى الشمس ما بقي من النهار وانا ارى ان رسول الله صلى الله عليه وسلم يرسلني في حاجة له، قلت: نعم، قال: ما احب ان لي مثل احد ذهبا انفقه كله إلا ثلاثة دنانير، وإن هؤلاء لا يعقلون إنما يجمعون الدنيا، لا والله لا اسالهم دنيا ولا استفتيهم عن دين حتى القى الله".
مجھ سے میرے خلیل نے کہا تھا میں نے پوچھا کہ آپ کے خلیل کون ہیں؟ جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اے ابوذر! کیا احد پہاڑ تو دیکھتا ہے۔ ابوذر رضی اللہ عنہ کا بیان تھا کہ اس وقت میں نے سورج کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا کہ کتنا دن ابھی باقی ہے۔ کیونکہ مجھے (آپ کی بات سے) یہ خیال گزرا کہ آپ اپنے کسی کام کے لیے مجھے بھیجیں گے۔ میں نے جواب دیا کہ جی ہاں (احد پہاڑ میں نے دیکھا ہے) آپ نے فرمایا کہ اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو میں اس کے سوا دوست نہیں رکھتا کہ صرف تین دینار بچا کر باقی تمام کا تمام (اللہ کے راستے میں) دے ڈالوں (ابوذر رضی اللہ عنہ نے پھر فرمایا کہ) ان لوگوں کو کچھ معلوم نہیں یہ دنیا جمع کرنے کی فکر کرتے ہیں۔ ہرگز نہیں اللہ کی قسم نہ میں ان کی دنیا ان سے مانگتا ہوں اور نہ دین کا کوئی مسئلہ ان سے پوچھتا ہوں تاآنکہ میں اللہ تعالیٰ سے جا ملوں۔