كِتَاب الْجَنَائِزِ کتاب: جنازے کے احکام و مسائل

حدثنا آدم، حدثنا ابن ابي ذئب، عن الزهري، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، عن ابي هريرة رضي الله عنه , قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم:" كل مولود يولد على الفطرة، فابواه يهودانه او ينصرانه او يمجسانه كمثل البهيمة تنتج البهيمة، هل ترى فيها جدعاء؟".

ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ‘ ان سے ابن ابی ذئب نے ‘ ان سے زہری نے ‘ ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر بچہ کی پیدائش فطرت پر ہوتی ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں بالکل اس طرح جیسے جانور کے بچے صحیح سالم ہوتے ہیں۔ کیا تم نے (پیدائشی طور پر) کوئی ان کے جسم کا حصہ کٹا ہوا دیکھا ہے۔

صحيح البخاري # 1385
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp