فصدقت يعني عائشة ابا هريرة وقالت: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقوله"، فقال ابن عمر رضي الله عنهما: لقد فرطنا في قراريط كثيرة فرطت ضيعت من امر الله.
پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی تصدیق کی اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ارشاد خود سنا ہے۔ اس پر ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ پھر تو ہم نے بہت سے قیراطوں کا نقصان اٹھایا۔ (سورۃ الزمر میں جو لفظ) «فرطت» آیا ہے اس کے یہی معنی ہیں میں نے ضائع کیا۔