كِتَاب الْجَنَائِزِ کتاب: جنازے کے احکام و مسائل

حدثنا عبد الله بن عبد الوهاب، حدثنا حماد بن زيد، حدثنا ايوب، عن محمد، عن ام عطية رضي الله عنها , قالت:" اخذ علينا النبي صلى الله عليه وسلم عند البيعة ان لا ننوح فما وفت منا امراة غير خمس نسوة ام سليم وام العلاء وابنة ابي سبرة امراة معاذ وامراتين او ابنة ابي سبرة وامراة معاذ وامراة اخرى".

ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ‘ ان سے ایوب سختیانی نے ‘ ان سے محمد نے اور ان سے ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت لیتے وقت ہم سے یہ عہد بھی لیا تھا کہ ہم (میت پر) نوحہ نہیں کریں گی۔ لیکن اس اقرار کو پانچ عورتوں کے سوا اور کسی نے پورا نہیں کیا۔ یہ عورتیں ام سلیم ‘ ام علاء ‘ ابوسبرہ کی صاحبزادی جو معاذ کے گھر میں تھیں اور اس کے علاوہ دو عورتیں یا (یہ کہا کہ) ابوسبرہ کی صاحبزادی، معاذ کی بیوی اور ایک دوسری خاتون (رضی اللہ عنہن)۔

صحيح البخاري # 1306
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp