كِتَاب الْجَنَائِزِ کتاب: جنازے کے احکام و مسائل

حدثنا إسماعيل، حدثني مالك، عن عبد الله بن ابي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم، عن حميد بن نافع، عن زينب بنت ابي سلمة اخبرته , قالت: دخلت على ام حبيبة زوج النبي صلى الله عليه وسلم , فقالت: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم , يقول: لا يحل لامراة تؤمن بالله واليوم الآخر تحد على ميت فوق ثلاث، إلا على زوج اربعة اشهر وعشرا.

ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا ‘ ان سے عبداللہ بن ابی بکر نے بیان کیا ‘ ان سے محمد بن عمرو بن حزم نے ‘ ان سے حمید بن نافع نے ‘ ان کو زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ کوئی بھی عورت جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو اس کے لیے شوہر کے سوا کسی مردے پر بھی تین دن سے زیادہ سوگ منانا جائز نہیں ہے۔ ہاں شوہر پر چار مہینے دس دن تک سوگ منائے۔

صحيح البخاري # 1281
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp