كِتَاب الْجَنَائِزِ کتاب: جنازے کے احکام و مسائل

حدثنا مسدد، حدثنا حماد بن زيد، عن عمرو وايوب , عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس رضي الله عنهم , قال:" كان رجل واقف مع النبي صلى الله عليه وسلم بعرفة فوقع عن راحلته، قال ايوب: فوقصته، وقال عمرو: فاقصعته فمات فقال: اغسلوه بماء وسدر وكفنوه في ثوبين، ولا تحنطوه ولا تخمروا راسه، فإنه يبعث يوم القيامة"، قال ايوب: يلبي، وقال عمرو: ملبيا.

ہم سے مسدد نے بیان کیا، ان سے حماد بن زید نے، ان سے عمرو اور ایوب نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میدان عرفات میں کھڑا ہوا تھا، اچانک وہ اپنی سواری سے گر پڑا۔ ایوب نے کہا اونٹنی نے اس کی گردن توڑ ڈالی۔ اور عمرو نے یوں کہا کہ اونٹنی نے اس کو گرتے ہی مار ڈالا اور اس کا انتقال ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اور دو کپڑوں کا کفن دو اور خوشبو نہ لگاؤ نہ سر ڈھکو کیونکہ قیامت میں یہ اٹھایا جائے گا۔ ایوب نے کہا کہ (یعنی) تلبیہ کہتے ہوئے (اٹھایا جائے گا) اور عمرو نے (اپنی روایت میں «ملبی» کے بجائے) «ملبيا» کا لفظ نقل کیا۔ (یعنی لبیک کہتا ہوا اٹھے گا)۔

صحيح البخاري # 1268
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp