كِتَاب الْجَنَائِزِ کتاب: جنازے کے احکام و مسائل

حدثنا محمد بن بشار، حدثنا غندر، حدثنا شعبة , قال: سمعت محمد بن المنكدر , قال: سمعت جابر بن عبد الله رضي الله عنهما , قال:" لما قتل ابي جعلت اكشف الثوب عن وجهه ابكي وينهوني عنه والنبي صلى الله عليه وسلم لا ينهاني فجعلت عمتي فاطمة تبكي، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: تبكين او لا تبكين، ما زالت الملائكة تظله باجنحتها حتى رفعتموه"، تابعه ابن جريج، اخبرني محمد بن المنكدر، سمع جابرا رضي الله عنه.

ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے غندر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے محمد بن منکدر سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے کہا کہ جب میرے والد شہید کر دیئے گئے تو میں ان کے چہرے پر پڑا ہو کپڑا کھولتا اور روتا تھا۔ دوسرے لوگ تو مجھے اس سے روکتے تھے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ نہیں کہہ رہے تھے۔ آخر میری چچی فاطمہ رضی اللہ عنہا بھی رونے لگیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ روؤ یا چپ رہو۔ جب تک تم لوگ میت کو اٹھاتے نہیں ملائکہ تو برابر اس پر اپنے پروں کا سایہ کئے ہوئے ہیں۔ اس روایت کی متابعت شعبہ کے ساتھ ابن جریج نے کی، انہیں ابن منکدر نے خبر دی اور انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا۔

صحيح البخاري # 1244
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp