كتاب فضل الصلاة کتاب: مکہ و مدینہ میں نماز کی فضیلت

حدثنا يعقوب بن إبراهيم هو الدورقي، حدثنا ابن علية، اخبرنا ايوب، عن نافع، ان ابن عمر رضي الله عنهما" كان لا يصلي من الضحى إلا في يومين يوم يقدم بمكة، فإنه كان يقدمها ضحى فيطوف بالبيت ثم يصلي ركعتين خلف المقام، ويوم ياتي مسجد قباء فإنه كان ياتيه كل سبت، فإذا دخل المسجد كره ان يخرج منه حتى يصلي فيه، قال: وكان يحدث ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يزوره راكبا وماشيا.

ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں ایوب سختیانی نے خبر دی اور انہیں نافع نے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما چاشت کی نماز صرف دو دن پڑھتے تھے۔ جب مکہ آتے کیونکہ آپ مکہ میں چاشت ہی کے وقت آتے تھے اس وقت پہلے آپ طواف کرتے اور پھر مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت پڑھتے۔ دوسرے جس دن آپ مسجد قباء میں تشریف لاتے آپ کا یہاں ہر ہفتہ کو آنے کا معمول تھا۔ جب آپ مسجد کے اندر آتے تو نماز پڑھے بغیر باہر نکلنا برا جانتے۔ آپ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہاں سوار اور پیدل دونوں طرح آیا کرتے تھے۔

صحيح البخاري # 1191
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp