كِتَاب التَّهَجُّد کتاب: تہجد کا بیان

حدثنا ابن مقاتل، اخبرنا عبد الله، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن هند بنت الحارث، عن ام سلمة رضي الله عنها،" ان النبي صلى الله عليه وسلم استيقظ ليلة , فقال: سبحان الله ماذا انزل الليلة من الفتنة، ماذا انزل من الخزائن من يوقظ صواحب الحجرات، يا رب كاسية في الدنيا عارية في الآخرة".

ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، انہیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں ہند بنت حارث نے اور انہیں ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات جاگے تو فرمایا سبحان اللہ! آج رات کیا کیا بلائیں اتری ہیں اور ساتھ ہی (رحمت اور عنایت کے) کیسے خزانے نازل ہوئے ہیں۔ ان حجرے والیوں (ازواج مطہرات رضوان اللہ علیہن) کو کوئی جگانے والا ہے افسوس! کہ دنیا میں بہت سی کپڑے پہننے والی عورتیں آخرت میں ننگی ہوں گی۔

صحيح البخاري # 1126
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp