اخبرنا قتيبة بن سعيد، حدثنا إسماعيل بن جعفر، عن حميد، عن انس، قال: اخبرني عبادة بن الصامت، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج يخبر بليلة القدر، فتلاحى رجلان من المسلمين، فقال:" إني خرجت لاخبركم بليلة القدر، وإنه تلاحى فلان وفلان، فرفعت وعسى ان يكون خيرا لكم، التمسوها في السبع والتسع والخمس".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، انہوں نے حمید سے، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے، کہا مجھ کو عبادہ بن صامت نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حجرے سے نکلے، لوگوں کو شب قدر بتانا چاہتے تھے (وہ کون سی رات ہے) اتنے میں دو مسلمان آپس میں لڑ پڑے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، میں تو اس لیے باہر نکلا تھا کہ تم کو شب قدر بتلاؤں اور فلاں فلاں آدمی لڑ پڑے تو وہ میرے دل سے اٹھا لی گئی اور شاید اسی میں کچھ تمہاری بہتری ہو۔ (تو اب ایسا کرو کہ) شب قدر کو رمضان کی ستائیسویں، انتیسویں و پچیسویں رات میں ڈھونڈا کرو۔