كِتَاب تَقْصِيرِ الصَّلَاةِ کتاب: نماز میں قصر کرنے کا بیان

حدثنا عبد الله بن يوسف، قال: اخبرنا مالك، عن عبد الله بن يزيد، وابي النضر، مولى عمر بن عبيد عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، عن عائشة ام المؤمنين رضي الله عنها،" ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصلي جالسا فيقرا وهو جالس، فإذا بقي من قراءته نحو من ثلاثين او اربعين آية قام فقراها وهو قائم، ثم يركع، ثم سجد يفعل في الركعة الثانية مثل ذلك، فإذا قضى صلاته نظر فإن كنت يقظى تحدث معي، وإن كنت نائمة اضطجع".

ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک رحمہ اللہ نے عبداللہ بن یزید اور عمر بن عبیداللہ کے غلام ابوالنضر سے خبر دی، انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف نے، انہیں ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی نماز بیٹھ کر پڑھنا چاہتے تو قرآت بیٹھ کر کرتے۔ جب تقریباً تیس چالیس آیتیں پڑھنی باقی رہ جاتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں کھڑے ہو کر پڑھتے۔ پھر رکوع اور سجدہ کرتے پھر دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کرتے۔ نماز سے فارغ ہونے پر دیکھتے کہ میں جاگ رہی ہوں تو مجھ سے باتیں کرتے لیکن اگر میں سوتی ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی لیٹ جاتے۔

صحيح البخاري # 1119
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp