حدثنا إسحاق بن منصور، قال: اخبرنا روح بن عبادة، اخبرنا حسين، عن عبد الله بن بريدة، عن عمران بن حصين رضي الله عنه، انه سال نبي الله صلى الله عليه وسلم، واخبرنا إسحاق، قال: اخبرنا عبد الصمد، قال: سمعت ابي، قال: حدثنا الحسين، عن ابي بريدة، قال:حدثني عمران بن حصين، وكان مبسورا قال: سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن صلاة الرجل قاعدا، فقال:" إن صلى قائما فهو افضل، ومن صلى قاعدا فله نصف اجر القائم، ومن صلى نائما فله نصف اجر القاعد".
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں روح بن عبادہ نے خبر دی، انہوں نے کہا ہمیں حسین نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن بریدہ نے، انہیں عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے کہ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا (دوسری سند) اور ہمیں اسحاق بن منصور نے خبر دی، کہا کہ ہمیں عبدالصمد نے خبر دی، کہا کہ میں نے اپنے باپ عبدالوارث سے سنا، کہا کہ ہم سے حسین نے بیان کیا اور ان سے ابن بریدہ نے کہا کہ مجھ سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے بیان کیا، وہ بواسیر کے مریض تھے انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی آدمی کے بیٹھ کر نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ افضل یہی ہے کہ کھڑے ہو کر پڑھے کیونکہ بیٹھ کر پڑھنے والے کو کھڑے ہو کر پڑھنے والے سے آدھا ثواب ملتا ہے اور لیٹے لیٹے پڑھنے والے کو بیٹھ کر پڑھنے والے سے آدھا ثواب ملتا ہے۔