كِتَاب تَقْصِيرِ الصَّلَاةِ کتاب: نماز میں قصر کرنے کا بیان

حدثنا حفص بن عمر، قال: حدثنا شعبة، عن عمرو، عن ابن ابي ليلى، قال:" ما اخبرنا احد انه راى النبي صلى الله عليه وسلم صلى الضحى غير ام هانئ، ذكرت ان النبي صلى الله عليه وسلم يوم فتح مكة اغتسل في بيتها، فصلى ثماني ركعات فما رايته صلى صلاة اخف منها، غير انه يتم الركوع والسجود".

ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن مرہ نے، ان سے ابن ابی لیلیٰ نے، انہوں نے کہا کہ ہمیں کسی نے یہ خبر نہیں دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انہوں نے چاشت کی نماز پڑھتے دیکھا ہاں ام ہانی رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ فتح مکہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گھر غسل کیا تھا اور اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ رکعتیں پڑھی تھیں، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی اتنی ہلکی پھلکی نماز پڑھتے نہیں دیکھا البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع اور سجدہ پوری طرح کرتے تھے۔

صحيح البخاري # 1103
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp