حدثنا عبد الله بن محمد، قال: حدثنا سفيان، عن الزهري، عن عروة، عن عائشة رضي الله عنها، قالت:" الصلاة اول ما فرضت ركعتين، فاقرت صلاة السفر واتمت صلاة الحضر"، قال الزهري: فقلت لعروة: ما بال عائشة تتم، قال: تاولت ما تاول عثمان.
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے زہری سے بیان کیا، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ پہلے نماز دو رکعت فرض ہوئی تھی بعد میں سفر کی نماز تو اپنی اسی حالت پر رہ گئی البتہ حضر کی نماز پوری (چار رکعت) کر دی گئی۔ زہری نے بیان کیا کہ میں نے عروہ سے پوچھا کہ پھر خود عائشہ رضی اللہ عنہا نے کیوں نماز پوری پڑھی تھی انہوں نے اس کا جواب یہ دیا کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کی جو تاویل کی تھی وہی انہوں نے بھی کی۔