كِتَاب الِاسْتِسْقَاءِ کتاب: استسقاء یعنی پانی مانگنے کا بیان

وقال لنا ابو نعيم، عن زهير، عن ابي إسحاق،" خرج عبد الله بن يزيد الانصاري، وخرج معه البراء بن عازب، وزيد بن ارقم رضي الله عنهم، فاستسقى فقام بهم على رجليه على غير منبر، فاستغفر ثم صلى ركعتين يجهر بالقراءة ولم يؤذن ولم يقم"، قال ابو إسحاق: وراى عبد الله بن يزيد النبي صلى الله عليه وسلم.

ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، ان سے زہیر نے، ان سے ابواسحاق نے کہ عبداللہ بن یزید انصاری رضی اللہ عنہ استسقاء کے لیے باہر نکلے۔ ان کے ساتھ براء بن عازب اور زید بن ارقم رضی اللہ عنہما بھی تھے۔ انہوں نے پانی کے لیے دعا کی تو پاؤں پر کھڑے رہے، منبر نہ تھا۔ اسی طرح آپ نے دعا کی پھر دو رکعت نماز پڑھی جس میں قرآت بلند آواز سے کی، نہ اذان کہی اور نہ اقامت ابواسحاق نے کہا عبداللہ بن یزید نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا۔

صحيح البخاري # 1022
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp