كِتَاب الِاسْتِسْقَاءِ کتاب: استسقاء یعنی پانی مانگنے کا بیان

حدثنا الحسن بن بشر، قال: حدثنا معافى بن عمران، عن الاوزاعي، عن إسحاق بن عبد الله، عن انس بن مالك، ان رجلا شكا إلى النبي صلى الله عليه وسلم هلاك المال وجهد العيال،" فدعا الله يستسقي ولم يذكر انه حول رداءه ولا استقبل القبلة".

ہم سے حسن بن بشر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے معافی بن عمران نے بیان کیا کہ ان سے امام اوزاعی نے، ان سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے (قحط سے) مال کی بربادی اور اہل و عیال کی بھوک کی شکایت کی۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعائے استسقاء کی۔ راوی نے اس موقع پر نہ چادر پلٹنے کا ذکر کیا اور نہ قبلہ کی طرف منہ کرنے کا۔

صحيح البخاري # 1018
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp