كِتَاب الِاسْتِسْقَاءِ کتاب: استسقاء یعنی پانی مانگنے کا بیان

حدثنا علي بن عبد الله، قال: حدثنا سفيان، عن عبد الله بن ابي بكر، انه سمع عباد بن تميم يحدث اباه عن عمه عبد الله بن زيد،" ان النبي صلى الله عليه وسلم خرج إلى المصلى فاستسقى فاستقبل القبلة وقلب رداءه، وصلى ركعتين"، قال ابو عبد الله: كان ابن عيينة يقول: هو صاحب الاذان ولكنه، وهم لان هذا عبد الله بن زيد بن عاصم المازني مازن الانصار.

ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے عبداللہ بن ابی بکر سے بیان کیا، انہوں نے عباد بن تمیم سے سنا، وہ اپنے باپ سے بیان کرتے تھے کہ ان سے ان کے چچا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عیدگاہ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں دعائے استسقاء قبلہ رو ہو کر کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چادر بھی پلٹی اور دو رکعت نماز پڑھی۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) کہتے ہیں کہ ابن عیینہ کہتے تھے کہ (حدیث کے راوی عبداللہ بن زید) وہی ہیں جنہوں نے اذان خواب میں دیکھی تھی لیکن یہ ان کی غلطی ہے کیونکہ یہ عبداللہ ابن زید بن عاصم مازنی ہے جو انصار کے قبیلہ مازن سے تھے۔

صحيح البخاري # 1012
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp