كِتَاب الِاسْتِسْقَاءِ کتاب: استسقاء یعنی پانی مانگنے کا بیان

وقال عمر بن حمزة حدثنا سالم، عن ابيه، ربما ذكرت قول الشاعر" وانا انظر إلى وجه النبي صلى الله عليه وسلم يستسقي، فما ينزل حتى يجيش كل ميزاب وابيض يستسقى الغمام بوجهه ثمال اليتامى عصمة للارامل"، وهو قول ابي طالب.

اور عمر بن حمزہ نے بیان کیا کہ ہم سے سالم نے اپنے والد سے بیان کیا وہ کہا کرتے تھے کہ اکثر مجھے شاعر (ابوطالب) کا شعر یاد آ جاتا ہے۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ کو دیکھ رہا تھا کہ آپ دعا استسقاء (منبر پر) کر رہے تھے اور ابھی (دعا سے فارغ ہو کر) اترے بھی نہیں تھے کہ تمام نالے لبریز ہو گئے۔ «وأبيض يستسقى الغمام بوجهه ثمال اليتامى عصمة للأرامل» (ترجمہ) گورا رنگ ان کا، وہ حامی یتیموں، بیواؤں کے لوگ ان کے منہ کے صدقے سے پانی مانگتے ہیں۔

صحيح البخاري # 1009
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp