حدثنا يحيى بن سليمان، قال: حدثني بن وهب، قال: اخبرني عمرو، ان عبد الرحمن بن القاسم حدثه، عن ابيه، عن عبد الله بن عمر، قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم:" صلاة الليل مثنى مثنى، فإذا اردت ان تنصرف فاركع ركعة توتر لك ما صليت"، قال القاسم: وراينا اناسا منذ ادركنا يوترون بثلاث وإن كلا لواسع ارجو ان لا يكون بشيء منه باس.
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں عمرو بن حارث نے خبر دی، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے اپنے باپ قاسم سے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، رات کی نماز دو، دو رکعتیں ہے اور جب تو ختم کرنا چاہے تو ایک رکعت وتر پڑھ لے جو ساری نماز کو طاق بنا دے گی۔ قاسم بن محمد نے بیان کیا کہ ہم نے بہت سوں کو تین رکعت وتر پڑھتے بھی پایا ہے اور تین یا ایک (رکعت وتر) سب جائز اور مجھ کو امید ہے کہ کسی میں قباحت نہ ہو گی۔