حدثنا حامد بن عمر، عن حماد بن زيد، عن ايوب، عن محمد، ان انس بن مالك قال:" إن رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى يوم النحر، ثم خطب، فامر من ذبح قبل الصلاة ان يعيد ذبحه، فقام رجل من الانصار فقال: يا رسول الله جيران لي إما قال بهم خصاصة وإما قال بهم فقر وإني ذبحت قبل الصلاة وعندي عناق لي احب إلي من شاتي لحم، فرخص له فيها".
ہم سے حامد بن عمر نے بیان کیا، ان سے حماد بن زید نے، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے محمد نے، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بقر عید کے دن نماز پڑھ کر خطبہ دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے نماز سے پہلے جانور ذبح کر لیا اسے دوبارہ قربانی کرنی ہو گی۔ اس پر انصار میں سے ایک صاحب اٹھے کہ یا رسول اللہ! میرے کچھ غریب بھوکے پڑوسی ہیں یا یوں کہا وہ محتاج ہیں۔ اس لیے میں نے نماز سے پہلے ذبح کر دیا البتہ میرے پاس ایک سال کی ایک پٹھیا ہے جو دو بکریوں کے گوشت سے بھی زیادہ مجھے پسند ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی۔