حدثنا آدم، قال: حدثنا شعبة قال: حدثنا زبيد، قال: سمعت الشعبي، عن البراء بن عازب، قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم:"إن اول ما نبدا في يومنا هذا ان نصلي، ثم نرجع فننحر، فمن فعل ذلك فقد اصاب سنتنا، ومن نحر قبل الصلاة فإنما هو لحم قدمه لاهله ليس من النسك في شيء"، فقال رجل من الانصار يقال له ابو بردة بن نيار: يا رسول الله ذبحت وعندي جذعة خير من مسنة، فقال: اجعله مكانه، ولن توفي او تجزي عن احد بعدك.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے زبید نے بیان کیا، کہا کہ میں نے شعبی سے سنا، ان سے براء بن عازب نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم اس دن پہلے نماز پڑھیں گے پھر خطبہ کے بعد واپس ہو کر قربانی کریں گے۔ جس نے اس طرح کیا اس نے ہماری سنت کے مطابق عمل کیا اور جس نے نماز سے پہلے قربانی کی تو اس کا ذبیحہ گوشت کا جانور ہے جسے وہ گھر والوں کے لیے لایا ہے، قربانی سے اس کا کوئی بھی تعلق نہیں۔ ایک انصاری رضی اللہ عنہ جن کا نام ابوبردہ بن نیار تھا بولے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے تو (نماز سے پہلے ہی) قربانی کر دی لیکن میرے پاس ایک سال کی پٹھیا ہے جو دوندی ہوئی بکری سے بھی اچھی ہے۔ آپ نے صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کہ اچھا اسی کو بکری کے بدلہ میں قربانی کر لو اور تمہارے بعد یہ کسی اور کے لیے کافی نہ ہو گی۔