قال قال واخبرني عطاء، ان ابن عباس ارسل إلى ابن الزبير في اول ما بويع له" إنه لم يكن يؤذن بالصلاة يوم الفطر إنما الخطبة بعد الصلاة".
پھر ابن جریج نے کہا کہ مجھے عطاء نے خبر دی کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص کو اس زمانہ میں بھیجا جب (شروع شروع ان کی خلافت کا زمانہ تھا آپ نے کہلایا کہ) عیدالفطر کی نماز کے لیے اذان نہیں دی جاتی تھی اور خطبہ نماز کے بعد ہوتا تھا۔