حدثنا إسماعيل، قال: حدثني مالك، عن إسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة، عن انس بن مالك، ان جدته مليكة دعت رسول الله صلى الله عليه وسلم لطعام صنعته، فاكل منه، فقال:" قوموا فلاصلي بكم، فقمت إلى حصير لنا قد اسود من طول ما لبث، فنضحته بماء فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم واليتيم معي والعجوز من ورائنا فصلى بنا ركعتين".
ہم سے اسماعیل بن اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک رحمہ اللہ نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ (ان کی ماں) اسحاق کی دادی ملیکہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے پر بلایا جسے انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بطور ضیافت تیار کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا کھایا پھر فرمایا کہ چلو میں تمہیں نماز پڑھا دوں۔ ہمارے یہاں ایک بوریا تھا جو پرانا ہونے کی وجہ سے سیاہ ہو گیا تھا۔ میں نے اسے پانی سے صاف کیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور (پیچھے) میرے ساتھ یتیم لڑکا (ضمیرہ بن سعد) کھڑا ہوا۔ میری بوڑھی دادی (ملیکہ ام سلیم) ہمارے پیچھے کھڑی ہوئیں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی۔