أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں («صفة الصلوة»)

حدثنا معلى بن اسد، قال: حدثنا وهيب، عن ايوب، عن ابي قلابة، قال:" جاءنا مالك بن الحويرث فصلى بنا في مسجدنا هذا، فقال: إني لاصلي بكم وما اريد الصلاة، ولكن اريد ان اريكم كيف رايت النبي صلى الله عليه وسلم يصلي، قال ايوب: فقلت لابي قلابة: وكيف كانت صلاته؟ قال: مثل صلاة شيخنا هذا يعني عمرو بن سلمة، قال ايوب: وكان ذلك الشيخ يتم التكبير، وإذا رفع راسه عن السجدة الثانية جلس واعتمد على الارض ثم قام".

ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے وہیب نے بیان کیا، انہوں نے ایوب سختیانی سے، انہوں نے ابوقلابہ سے، انہوں نے بیان کیا کہ مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ ہمارے یہاں تشریف لائے اور آپ نے ہماری اس مسجد میں نماز پڑھائی۔ آپ نے فرمایا کہ میں نماز پڑھا رہا ہوں لیکن میری نیت کسی فرض کی ادائیگی نہیں ہے بلکہ میں صرف تم کو یہ دکھانا چاہتا ہوں کہ نبی کریم کس طرح نماز پڑھا کرتے تھے۔ ایوب سختیانی نے بیان کیا کہ میں نے ابوقلابہ سے پوچھا کہ مالک رضی اللہ عنہ کس طرح نماز پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ ہمارے شیخ عمرو بن سلمہ کی طرح۔ ایوب نے بیان کیا کہ شیخ تمام تکبیرات کہتے تھے اور جب دوسرے سجدہ سے سر اٹھاتے تو تھوڑی دیر بیٹھتے اور زمین کا سہارا لے کر پھر اٹھتے۔

صحيح البخاري # 824
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp