أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں («صفة الصلوة»)

style="display:none" >حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُصْعَبَ بْنَ سَعْدٍ، يَقُولُ:" صَلَّيْتُ إِلَى جَنْب أَبِي فَطَبَّقْتُ بَيْنَ كَفَّيَّ ثُمَّ وَضَعْتُهُمَا بَيْنَ فَخِذَيَّ، فَنَهَانِي أَبِي وَقَالَ: كُنَّا نَفْعَلُهُ فَنُهِينَا عَنْهُ وَأُمِرْنَا أَنْ نَضَعَ أَيْدِينَا عَلَى الرُّكَبِ".

ہم سے ابوالولید ہشام بن عبدالملک نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ابویعفور اکبر سے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے مصعب بن سعد سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے والد کے پہلو میں نماز پڑھی اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کو ملا کر رانوں کے درمیان رکھ لیا۔ اس پر میرے باپ نے مجھے ٹوکا اور فرمایا کہ ہم بھی پہلے اسی طرح کرتے تھے۔ لیکن بعد میں اس سے روک دئیے گئے اور حکم ہوا کہ ہم اپنے ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھیں۔

صحيح البخاري # 790
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp