حدثنا يحيى بن بكير، قال: حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، قال: اخبرني ابو بكر بن عبد الرحمن بن الحارث، انه سمع ابا هريرة، يقول:" كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا قام إلى الصلاة يكبر حين يقوم، ثم يكبر حين يركع، ثم يقول: سمع الله لمن حمده حين يرفع صلبه من الركعة، ثم يقول وهو قائم ربنا لك الحمد"، قال عبد الله بن صالح: عن الليث، ولك الحمد، ثم يكبر حين يهوي، ثم يكبر حين يرفع راسه، ثم يكبر حين يسجد، ثم يكبر حين يرفع راسه، ثم يفعل ذلك في الصلاة كلها حتى يقضيها ويكبر حين يقوم من الثنتين بعد الجلوس.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے عقیل بن خالد کے واسطے سے بیان کیا، انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے کہا کہ مجھے ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث نے خبری دی کہ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے۔ پھر جب رکوع کرتے تب بھی تکبیر کہتے تھے۔ پھر جب سر اٹھاتے تو «سمع الله لمن حمده» کہتے اور کھڑے ہی کھڑے «ربنا لك الحمد» کہتے۔ پھر جب (دوسرے) سجدہ کے لیے جھکتے تب تکبیر کہتے اور جب سجدہ سے سر اٹھاتے تب بھی تکبیر کہتے۔ اسی طرح آپ تمام نماز پوری کر لیتے تھے۔ قعدہ اولیٰ سے اٹھنے پر بھی تکبیر کہتے تھے۔ (اس حدیث میں) عبداللہ بن صالح نے لیث کے واسطے سے (بجائے «ربنا لك الحمد» کے) «ربنا ولك الحمد» نقل کیا ہے۔ ( «ربنا لك الحمد» کہے یا «ربنا ولك الحمد» واؤ کے ساتھ ہر دو طریقہ درست ہے)۔