أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں («صفة الصلوة»)

حدثنا موسى بن إسماعيل، قال: اخبرنا همام، عن قتادة، عن عكرمة، قال:" صليت خلف شيخ 0بمكة فكبر ثنتين وعشرين تكبيرة، فقلت لابن عباس: إنه احمق، فقال: ثكلتك امك، سنة ابي القاسم صلى الله عليه وسلم"، وقال موسى حدثنا ابان، حدثنا قتادة، حدثنا عكرمة.

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہمام بن یحییٰ نے قتادہ سے بیان کیا، وہ عکرمہ سے، کہا کہ میں نے مکہ میں ایک بوڑھے کے پیچھے (ظہر کی) نماز پڑھی۔ انہوں نے (تمام نماز میں) بائیس تکبیریں کہیں۔ اس پر میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ یہ بوڑھا بالکل بے عقل معلوم ہوتا ہے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا تمہاری ماں تمہیں روئے یہ تو ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ اور موسیٰ بن اسماعیل نے یوں بھی بیان کیا کہ ہم سے ابان نے بیان کیا، کہ کہا ہم سے قتادہ نے، انہوں نے کہا کہ ہم سے عکرمہ نے یہ حدیث بیان کی۔

صحيح البخاري # 788
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp