كِتَاب الْأَذَانِ کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں

حدثنا علي بن عبد الله، قال: حدثنا يزيد بن زريع، قال: حدثنا سعيد، قال: حدثنا قتادة، ان انس بن مالك حدثه، ان النبي صلى الله عليه وسلم، قال:" إني لادخل في الصلاة وانا اريد إطالتها، فاسمع بكاء الصبي فاتجوز في صلاتي مما اعلم من شدة وجد امه من بكائه".

ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سعید بن ابی عروبہ نے بیان کیا۔ کہا کہ ہم سے قتادہ نے بیان کیا کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نماز شروع کر دیتا ہوں۔ ارادہ یہ ہوتا ہے کہ نماز طویل کروں، لیکن بچے کے رونے کی آواز سن کر مختصر کر دیتا ہوں کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ ماں کے دل پر بچے کے رونے سے کیسی چوٹ پڑتی ہے۔

صحيح البخاري # 709
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp