كِتَاب الْأَذَانِ کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں

حدثنا احمد بن يونس، قال: حدثنا زهير، قال: حدثنا إسماعيل، قال: سمعت قيسا، قال: اخبرني ابو مسعود، ان رجلا، قال: والله يا رسول الله إني لاتاخر عن صلاة الغداة من اجل فلان مما يطيل بنا، فما رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم في موعظة اشد غضبا منه يومئذ، ثم قال:" إن منكم منفرين فايكم ما صلى بالناس فليتجوز، فإن فيهم الضعيف والكبير وذا الحاجة".

ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے زہیر بن معاویہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا، کہا کہ میں نے قیس بن ابی حازم سے سنا، کہا کہ مجھے ابومسعود انصاری نے خبر دی کہ ایک شخص نے کہا کہ یا رسول اللہ! قسم اللہ کی میں صبح کی نماز میں فلاں کی وجہ سے دیر میں جاتا ہوں، کیونکہ وہ نماز کو بہت لمبا کر دیتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نصیحت کے وقت اس دن سے زیادہ (کبھی بھی) غضب ناک نہیں دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کچھ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ (عوام کو عبادت سے یا دین سے) نفرت دلا دیں، خبردار تم میں لوگوں کو جو شخص بھی نماز پڑھائے تو ہلکی پڑھائے۔ کیونکہ نمازیوں میں کمزور، بوڑھے اور ضرورت والے سب ہی قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔

صحيح البخاري # 702
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp