كِتَاب الْأَذَانِ کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں

حدثنا سليمان بن حرب، قال: حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن ابي قلابة، عن مالك بن الحويرث، قال: قدمنا على النبي صلى الله عليه وسلم ونحن شببة فلبثنا عنده نحوا من عشرين ليلة، وكان النبي صلى الله عليه وسلم رحيما، فقال:" لو رجعتم إلى بلادكم فعلمتموهم مروهم فليصلوا صلاة كذا في حين كذا، وصلاة كذا في حين كذا، وإذا حضرت الصلاة فليؤذن لكم احدكم، وليؤمكم اكبركم".

ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں حماد بن زید نے خبر دی ایوب سختیانی سے، انہوں نے ابوقلابہ سے، انہوں نے مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ملک سے حاضر ہوئے۔ ہم سب ہم عمر نوجوان تھے۔ تقریباً بیس راتیں ہم آپ کی خدمت میں ٹھہرے رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بڑے ہی رحم دل تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ہماری غربت کا حال دیکھ کر) فرمایا کہ جب تم لوگ اپنے گھروں کو جاؤ تو اپنے قبیلہ والوں کو دین کی باتیں بتانا اور ان سے نماز پڑھنے کے لیے کہنا کہ فلاں نماز فلاں وقت اور فلاں نماز فلاں وقت پڑھیں۔ اور جب نماز کا وقت ہو جائے تو کوئی ایک اذان دے اور جو عمر میں بڑا ہو وہ امامت کرائے۔

صحيح البخاري # 685
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp