كِتَاب الْأَذَانِ کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں

حدثنا مسلم بن إبراهيم، قال: حدثنا هشام، عن يحيى، عن ابي سلمة، قال: سالت ابا سعيد الخدري فقال: جاءت سحابة فمطرت حتى سال السقف، وكان من جريد النخل، فاقيمت الصلاة" فرايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يسجد في الماء والطين حتى رايت اثر الطين في جبهته".

ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہشام دستوائی نے یحییٰ بن کثیر سے بیان کیا، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے، انہوں نے کہا کہ میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے (شب قدر کو) پوچھا۔ آپ نے فرمایا کہ بادل کا ایک ٹکڑا آیا اور برسا یہاں تک کہ (مسجد کی چھت) ٹپکنے لگی جو کھجور کی شاخوں سے بنائی گئی تھی۔ پھر نماز کے لیے تکبیر ہوئی۔ میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیچڑ اور پانی میں سجدہ کر رہے تھے۔ کیچڑ کا نشان آپ کی پیشانی پر بھی میں نے دیکھا۔

صحيح البخاري # 669
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp