كِتَاب الْأَذَانِ کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں

وقال مجاهد في قوله: ونكتب ما قدموا وآثارهم، قال خطاهم، وقال ابن ابي مريم: اخبرنا يحيى بن ايوب، حدثني حميد، حدثني انس، ان بني سلمة ارادوا ان يتحولوا عن منازلهم فينزلوا قريبا من النبي صلى الله عليه وسلم، قال: فكره رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يعروا المدينة، فقال: الا تحتسبون آثاركم؟ قال مجاهد: خطاهم آثارهم ان يمشى في الارض بارجلهم.

اور ابن ابی مریم نے بیان میں یہ زیادہ کہا ہے کہ مجھے یحییٰ بن ایوب نے خبر دی، کہا کہ مجھ سے حمید طویل نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ بنو سلمہ والوں نے یہ ارادہ کیا کہ اپنے مکان (جو مسجد سے دور تھے) چھوڑ دیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آ رہیں۔ (تاکہ باجماعت کے لیے مسجد نبوی کا ثواب حاصل ہو) لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ کا اجاڑ دینا برا معلوم ہوا۔ آپ نے فرمایا کہ تم لوگ اپنے قدموں کا ثواب نہیں چاہتے؟ مجاہد نے کہا (سورۃ یٰسین میں) «وآثارهم» سے قدم مراد ہیں۔ یعنی زمین پر چلنے سے پاؤں کے نشانات۔

صحيح البخاري # 656
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp