كِتَاب الْأَذَانِ کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں

حدثنا مسدد، قال: اخبرنا يحيى، عن عبيد الله بن عمر، قال: حدثني نافع، قال: اذن ابن عمر في ليلة باردة بضجنان، ثم قال: صلوا في رحالكم، فاخبرنا ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يامر مؤذنا يؤذن، ثم يقول على إثره:" الا صلوا في الرحال في الليلة الباردة او المطيرة في السفر".

ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے عبیداللہ بن عمر عمری سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے نافع نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک سرد رات میں مقام ضجنان پر اذان دی پھر فرمایا «ألا صلوا في الرحال‏» کہ لوگو! اپنے اپنے ٹھکانوں میں نماز پڑھ لو اور ہمیں آپ نے بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مؤذن سے اذان کے لیے فرماتے اور یہ بھی فرماتے کہ مؤذن اذان کے بعد کہہ دے کہ لوگو! اپنے ٹھکانوں میں نماز پڑھ لو۔ یہ حکم سفر کی حالت میں یا سردی یا برسات کی راتوں میں تھا۔

صحيح البخاري # 632
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp