كِتَاب الْأَذَانِ کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں

حدثنا مسلم بن إبراهيم، قال: حدثنا شعبة، عن المهاجر ابي الحسن، عن زيد بن وهب، عن ابي ذر، قال:" كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم في سفر فاراد المؤذن ان يؤذن، فقال له: ابرد، ثم اراد ان يؤذن، فقال له: ابرد، ثم اراد ان يؤذن، فقال له: ابرد، حتى ساوى الظل التلول، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: إن شدة الحر من فيح جهنم".

ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے مہاجر ابوالحسن سے بیان کیا، انہوں نے زید بن وہب سے، انہوں نے ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ مؤذن نے اذان دینی چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھنڈا ہونے دے۔ پھر مؤذن نے اذان دینی چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی فرمایا کہ ٹھنڈا ہونے دے۔ یہاں تک کہ سایہ ٹیلوں کے برابر ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گرمی کی شدت دوزخ کی بھاپ سے پیدا ہوتی ہے۔

صحيح البخاري # 629
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp