كِتَاب الْأَذَانِ کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں

ح وحدثني يوسف بن عيسى المروزي، قال: حدثنا الفضل بن موسى، قال: حدثنا عبيد الله بن عمر، عن القاسم بن محمد، عن عائشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه، قال:" إن بلالا يؤذن بليل، فكلوا واشربوا حتى يؤذن ابن ام مكتوم".

(دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ مجھ سے یوسف بن عیسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے فضل بن موسیٰ نے، کہا کہ ہم سے عبیداللہ بن عمر نے قاسم بن محمد سے بیان کیا، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بلال رات رہے میں اذان دیتے ہیں۔ عبداللہ ابن ام مکتوم کی اذان تک تم (سحری) کھا پی سکتے ہو۔

صحيح البخاري # 623
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp